ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا صرف 3فیصد اوقافی املاک ہی غیر قانوی قبضے میں ہے؟ مرکزی حکومت کے ادارے ومسی کی تفصیلات حقائق کے برعکس

کیا صرف 3فیصد اوقافی املاک ہی غیر قانوی قبضے میں ہے؟ مرکزی حکومت کے ادارے ومسی کی تفصیلات حقائق کے برعکس

Sun, 09 Feb 2020 13:05:55    S.O. News Service

بنگلورو،9/فروری(ایس او نیوز)مرکزی حکومت کی وزارت اقلیتی امور کے تحت آنے والے ادارے وقف مینجمنٹ سسٹم آف انڈیا(ومسی) نے یہ بتایا ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی قبضہ میں جانے والی اوقافی املاک صرف 3فیصد ہے۔ بڑی بڑی اوقافی املاک پر قبضوں کا جائزہ لیا جائے توومسی کا یہ عدد غیر حقیقت پسندانہ محسوس ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے وقف قانون 2013لاگو کرنے کے بعد سے ملک بھر کی 6.16لاکھ سے زیادہ اوقافی جائیدادوں میں سے صرف تقریباً 18ہزار اوقافی املاک کے غیر قانونی قبضہ میں رہنے کی بات بالکل ہضم ہونے والی نہیں۔ اس کا سبب یہ کہ نئے وقف قانون کی فعات 52،52aاور 52bکے تحت اگر اوقافی املاک کی لیز کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اس کی تجدید نہیں کی گئی ہے تو اسے بھی غیر قانونی قبضہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں ایسی کتنی اوقافی جائیدادیں ہو گی جن کے لیز کی مدت ختم ہو چکی ہے اور تجدید نہ ہو سکی اس کے باوجود لیزپر لینے والے ابھی اس جائیداد کے پوسیشن میں ہیں۔ ان اعداد و شمار کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ ومسی کے اعداد وشمار کے مطابق صرف تین ریاستوں اتر پردیش، مغربی بنگال اور کرناٹک کی اوقافی املاک ملک کی تمام اوقافی املاک کا 49فیصدی ہیں۔ ومسی کے مطابق ان میں سے صرف 8فیصد جائیدادوں کا جی پی ایس سروے کروایا گیا ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ غیر قانونی قبضے پنجاب میں ہوئے ہیں ان قبضوں کی تعداد 5610ہے۔ کرناٹک میں صرف 802املاک پر قبضہ ہے جبکہ تامل ناڈو میں 1335املاک قبضہ میں ہے۔


Share: